نواز شریف کو سزا کیوں دی گئی؟ عمران خان کو کس منصوبے تحت اقتدار میں لایا گیا؟ دلچسپ حقائق سامنے آ گئے

0
133

نوازشریف نے جس دن سی پیک منصوبہ شروع کیا تھا اسی دن سے پاکستان کے خلاف سازشوں میں تیزی آگئی تھی

نوازشریف نے جس دن سی پیک منصوبہ شروع کیا تھا اسی دن سے پاکستان کے خلاف سازشوں میں تیزی آگئی تھی لگتا یوں ہے کہ سی پیک کے دشمن اپنے ارادوں میں کامیاب ہو گئے ہیں اسی لیے اب منصوبے کی رفتار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں بلکہ جرمن نشریاتی ادارے نے تو یہاں تک سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا سی پیک ختم ہو گیا ہے اور اگر ختم نہیں ہوا تو بھی اسکی رفتار وہ نہیں جو ہونا چاہیے تھی 

یہ منصوبہ نوازشریف کی ذات کے لیے نہیں تھا بلکہ پاکستان کے لیے تھا اور اس منصوبے کے گارنٹر بہت طاقت ور لوگ سمجھے جاتے تھے سی پیک کےمنصوبے کا خالق تو جیل میں بیٹھا ہے اور اسکا جیل سے باہر آنے کا کوئی ارادہ بھی نہیں لیکن سی پیک پر کام کیوں نہیں ہو رہا کیا منصوبہ آئی ایم ایف کے معاہدے کی نظر ہو گیا آئی ایم ایف کے اس معاہدے پر بہت تحفظات تھے 

امریکہ اور بھارت اس منصوبے کے دو بڑے مخالفین میں شامل ہیں جنکی وجہ سے بلوچستان کا امن ہمیشہ خطرے میں پڑا رہا اس منصوبے کے لیے ہم نے بہت سی قربانیاں دی ہیں مگر اب 

پاک چین اقتصادی منصوبے پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا وہ مبصوبہ جس نے پاکستان کی قسمت بدلنا تھی جسکو خطے میں گیم چینجر سمجھا جا رہا تھا کیا وہ منصوبہ ختم ہو گیا ہے کیا دشمن اپنے ارادوں میں کامیاب ہو گیا سی پیک وہ منصوبہ ہے جسکی سزا نوازشریف کو کسی اور شکل میں ملی 

جب سی پیک شروع ہوا تھا تو اسے پورے خطے کے لیے گیم چینجر سمجھا جا رہا تھا سی پیک اصل میں وہ منصوبہ ہے جو پاکستان کی معیشت کو بحران سے نکال سکتا ہے اس منصوبے کی وجہ سے ہماری برامدات بڑھتی گروتھ ریٹ اوپر جاتا اکنامک زونز بنتے روزگار کے مواقع نکلتے اور ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتے ویت نام بنگلہ دیش برما اور سری لنکا میں چین زبردست سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اکنامک زونز بنائےجا رہے ہیں 

منصوبے کے تحت پاکستان کو 9 اکنامک زونز بنانا تھے لیکن چار سال میں ایک بھی اکنامک زون نہیں بنایا جا سکا 

خان صاحب کے دور حکومت میں چین اور کشمیر دو ایسے بڑے معاملات ہیں جن پر شکوک و شہبات بڑھ رہے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مزید بڑھتے جا رہے ہیں عوام کے خدشات کو دور کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ حکومت سی پیک کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے گوادر کو سی پورٹ کی بجائے آئیل پورٹ بنانے سے منصوبے کے خدوخال میں تبدیلی آچکی ہے لیکن کوریڈور اور اکنامک زونز تو بنائے جا سکتے ہیں 

جرمن نشریاتی ادارے نے سی پیک کے حوالے سے جو سوال اٹھائے ہیں وہ بہت سنجیدہ نوعیت کے ہیں یہ منصوبہ قوم کی امانت ہ اور عوام نے بھی اس منصوبے سے بہت سی امیدیں لگا رکھی ہیں کہنے والے تو کہتے ہیں کہ حکومت نے آئی ایم ایف اور امریکہ کو خوش کرنے کے لیے  اس منصوبے کی رفتار پر کام سست کر دیا ہے لیکن کیا امریکہ کبھی کسی سے خوش ہوا ہے پاک امریکہ تعلقات ویسے بھی دھوپ چھاؤں کا کھیل ہے کل تک ٹرمپ طالبان سے مذکرات کے لیے آپ کی مدد مانگ رہے تھے لیکن مذکرات ختم کرتے ہوئے اس نے کسی سے پوچھا بلکل نہیں تو اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ ناقابل اعتبارہے یہ بات نوازشریف نے تو سمجھ لی تھی موجودہ حکومت بھی جتنی جلدی سمجھ جائے تو اچھا ہے سی پیک وہ واحد منصوبہ ہے جو ہمیں تمام مشکلات سے نکال سکتا ہے

LEAVE A REPLY