یہ مصنوعی گوشت اپنے زخم خود بھر سکتا ہے

0
62
یہ اصلی جلد، پٹھوں اور یہاں تک کہ ہڈی کی طرح پائیدار اور مضبوط بھی 

کینبرا: آسٹریلوی سائنسدانوں نے تجربہ گاہ میں ایسا جیلی دار مصنوعی مادّہ تیار کرلیا ہے جسے وہ قدرتی گوشت جیسا ہی قرار دے رہے ہیں کیونکہ اگر اس میں شگاف کردیا جائے تو یہ خود بخود اس شگاف کو بھر دیتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے انسانی جلد پر زخم لگ جائے تو وہ اسے خود ہی مندمل کردیتی ہے۔

تاہم اس نئے جیلی دار مادّے کی خصوصیات صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ یہ اصلی جلد، پٹھوں اور یہاں تک کہ ہڈی کی طرح پائیدار اور مضبوط بھی ہے۔ بنیادی طور پر یہ ویسا ہی ایک ہلکا پھلکا اور لچک دار مادّہ ہے جسے ’’ہائیڈروجل‘‘ کہتے ہیں۔ البتہ اس میں خصوصی کیمیائی کاریگری دکھاتے ہوئے انسانی کھال اور گوشت جیسی خصوصیات پیدا کی گئی ہیں جن میں مضبوطی اور لچک سب سے اہم ہیں

دیگر ہائیڈروجل کے برعکس، یہ مادّہ اپنی شکل تبدیل کرسکتا ہے۔ اس لیے مستقبل میں یہ زخم بھرنے کے علاوہ کئی طرح کے طبّی آلات اور نرم روبوٹس کی نت نئی اقسام تیار کرنے میں بھی کام آسکے گا

یہ انوکھا مادّہ آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے ماہرین نے تیار کیا ہے جس کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’ایڈوانسڈ مٹیریلز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں

LEAVE A REPLY