انڈیا میں 32 کلومیٹر دوری سے مریض کے دل کا ’’روبوٹک آپریشن‘‘ کامیاب

0
100

سرجن کے ہاتھوں میں آلات جراحی کو ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سے روبوٹ سسٹم کےساتھ مربوط کیا گیا جو مریض کے کمرے میں رکھا تھا۔ 

احمد آباد: گزشتہ دنوں ایک سرجن نے 32 کلومیٹر دور بیٹھ کر، روبوٹ کنٹرول کرتے ہوئے، ایک مریض کے دل کا کامیاب آپریشن انجام دیا۔ اس کامیابی کو ٹیلی میڈیسن کے ذیلی شعبے ’’روبوٹ اسسٹڈ سرجری‘‘ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔

خبروں کے مطابق، بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے مضافات میں انجام دیئے گئے اس آپریشن میں روبوٹ سے مریض کے دل کی رگوں میں اسٹنٹ ڈالنے کا کام لیا گیا جبکہ سرجن تیجاس پٹیل وہاں سے 32 کلومیٹر دوری پر ایپکس ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں بیٹھ کر روبوٹ کو کنٹرول کررہے تھے۔

اس آپریشن میں ’’کورنڈس‘‘ نامی کمپنی کا تیار کردہ ’’کورپاتھ جی آر ایکس‘‘ روبوٹ استعمال کیا گیا جو اس شعبے کےلیے بنائے گئے روبوٹس کے مقابلے میں بہت کم خرچ بھی ہے۔ اس کامیابی کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’ای کلینیکل میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

سرجری کے میدان میں ’’ٹیلی آپریٹڈ سرجری‘‘ کے عنوان سے، روبوٹس کے مؤثر استعمال کی کوششیں پچھلے تیس سال سے جاری ہیں جو حالیہ چند برسوں کے دوران ہی (مصنوعی ذہانت میں غیرمعمولی ترقی کے باعث) کامیاب ہونا شروع ہوئی ہیں۔ البتہ، مذکورہ کامیاب آپریشن اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ اب تک کی گئی تمام روبوٹ اسسٹڈ سرجریز کے مقابلے میں خاصا مشکل کام تھا۔

اس آزمائشی لیکن حقیقی انسانی آپریشن کےلیے ایپکس ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں آپریٹنگ ٹیبل پر مریض کے قد و قامت جتنا ایک پتلا لٹایا گیا تھا جبکہ سرجن کے ہاتھوں میں موجود سرجری کے آلات کو ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کے ذریعے مریض کے کمرے میں موجود روبوٹ سسٹم سے مربوط کیا گیا تھا۔

آپریشن کے دوران سرجن نے طاقتور کیمروں کے ذریعے دور دراز مریض پر بھی پوری نظر رکھی ہوئی تھی۔ اس اضافی اقدام کا مقصد غلطی کے امکان کو کم سے کم رکھنا تھا۔

توقع ہے کہ اس کامیابی کے بعد دل کے آپریشن میں بھی روبوٹس کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔ لیکن فی الحال یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ٹیکنالوجی کس حد تک کم خرچ بن سکے گی؛ اور یہ کہ اس سے ترقی پذیر ممالک میں رہنے والے غریب لوگوں کو واقعتاً کوئی فائدہ بھی پہنچے گا یا نہیں۔

LEAVE A REPLY