یہ اُڑن کار ’صرف‘ 9 کروڑ روپے میں آپ کی ہوسکتی ہے!

0
125
یہ تجارتی پیمانے پر تیار کی جانے والی پہلی اُڑن کار ہے۔

میامی: گزشتہ روز امریکا میں ایک اُڑن کار فروخت کےلیے پیش کی گئی جس کی تعارفی قیمت 6 لاکھ امریکی ڈالر (9 کروڑ 30 لاکھ پاکستانی روپے) ہے۔ اگرچہ یہ دنیا کی پہلی اُڑن کار تو نہیں لیکن وہ پہلی کار ضرور ہے جو تجارتی پیمانے پر تیار کی جارہی ہے۔ اسے ’پائنیئر پرسنل لینڈنگ وہیکل‘ (PAL-V) کا نام دیا گیا ہے۔

تین پہیوں والی یہ کار ہالینڈ کے انجینئروں کی ایجاد ہے جس میں بطورِ خاص ایسی ٹیکنالوجیز استعمال کی گئی ہیں جو ثابت شدہ ہوں اور جنہیں استعمال کرنے کے بارے میں قوانین بھی واضح ہوں۔ زمین پر یہ کار کی طرح چلتی ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر اسے صرف چند بٹن دبا کر ایک جائیرو کاپٹر (چھوٹے ہیلی کاپٹر) میں تبدیل کیا جاسکتا ہے

6 لاکھ ڈالر کی رقم اگرچہ زیادہ لگتی ہے لیکن تجرباتی اُڑن کاروں کے مقابلے یہ بہت کم ہے۔ شاید اسی بناء پر اب تک اس کار کے70سے زائد آرڈز آچکے ہیں جبکہ آئندہ چند دنوں میں مزید سیکڑوں آرڈرز متوقع ہیں۔ کمپنی کا ارادہ اگلے سال ’’پال وی لبرٹی اسپورٹ‘‘ کے نام سے اسی کار کا نسبتاً کم خرچ ماڈل پیش کرنے کا ہے جس کی قیمت صرف 3 لاکھ 35 ہزار امریکی ڈالر (تقریباً 5 کروڑ 20 لاکھ پاکستانی روپے) رکھی جائے گی۔

’’پال وی‘‘ میں دو افراد کی گنجائش ہے جبکہ اس میں 230 ہارس پاور کا انجن نصب ہے۔ اتنے جاندار انجن کے باوجود اس کا وزن صرف 1500 پاؤنڈ (600 کلوگرام) ہے جو ایک چھوٹی گاڑی کے وزن سے کچھ خاص مختلف نہیں۔ اسے ہلکا پھلکا اور مضبوط بنانے کےلیے کاربن فائبر، ٹیٹانیم اور المونیم استعمال کیے گئے ہیں۔

اُڑان بھرنے کےلیے اسے 540 فٹ لمبا رن وے درکار ہوتا ہے جبکہ اُترنے (لینڈنگ) کےلیے صرف 100 فٹ طویل رن وے ہی کافی رہتا ہے۔ اس کا ڈرائیونگ/ فلائنگ سسٹم کسی پاور بائیک جیسا ہے۔ ہوا میں بلند ہونے کے بعد اس کی ہیلی کاپٹر جیسی پنکھڑیاں کھل جاتی ہیں اور یہ اُڑتی ہوئی اپنی منزل کی سمت بڑھنے لگتی ہے۔ اگرچہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا لیکن اتنا ضرور کہا گیا ہے کہ زمین پر دوڑتے ہوئے یہ صرف آٹھ سیکنڈ میں صفر سے 60 میل فی گھنٹہ (96 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار تک پہنچ سکتی ہے

اس میں ایندھن کی ٹنکی بھی خاصی بڑی ہے جس میں 27 گیلن (102 لیٹر) جتنی گنجائش ہے۔ اس کی بدولت یہ 3500 میٹر کی بلندی پر رہتے ہوئے 500 کلومیٹر تک کا سفر کرسکتی ہے جبکہ زمین پر دوڑنے کی صورت میں یہ ایک مرتبہ ایندھن بھروا کر 1207 کلومیٹر دور تک پہنچ سکتی ہے۔

زمین پر اُترنے کے بعد ’پال وی‘ کی پنکھڑیاں اس کے بالائی حصے میں اندر کی طرف سمٹ جاتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے چمگادڑ اپنے لمبے پروں کو سمیٹ کر انتہائی مختصر جگہ میں سمو لیتی ہے۔

ان تمام خوبیوں کے باوجود، پال وی کو ابھی پرواز کے 150 گھنٹے مکمل کرتے ہیں جس کے بعد اسے سخت آزمائشوں سے گزارا جائے گا، تب کہیں جاکر ’’یورپین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی‘‘ کی طرف باضابطہ اجازت نامہ ملے گا؛ اور یہ یورپ کے علاوہ امریکا میں بھی قانونی طور پر ’’اڑن کار‘‘ کی حیثیت سے تسلیم کرلی جائے گی

LEAVE A REPLY