مردہ انسانوں سے کھاد تیار کرنے والی فیکٹری کی تعمیر شروع

0
138
اس ماحول دوست خانے میں رکھا گیا مردہ انسانی جسم صرف 30 دن میں مکمل طور پر گل سڑ کر ختم ہوجائے گا

سیاٹل: ایک امریکی کمپنی نے باقاعدہ لائسنس کے تحت مردہ انسانی جسموں کو گلا سڑا کر کھاد اور دوسرے مفید مادّوں میں تبدیل کرنے کے لیے سیاٹل، واشنگٹن میں فیکٹری کی تعمیر شروع کردی جو 2021ء میں اپنے کام کا آغاز کردے گی۔

واضح رہے کہ مردہ جانوروں اور فضلے کے گل سڑ کر کھاد اور دوسرے نامیاتی مادّوں میں تبدیل ہونے کا عمل سائنسی زبان میں ’’کمپوسٹنگ‘‘ کہلاتا ہے۔ جانوروں، پودوں اور فضلے کی کمپوسٹنگ کے سیکڑوں کارخانے اس وقت دنیا بھر میں کام کررہے ہیں جبکہ کمپوسٹنگ کے دوران خارج ہونے والی حرارت سے بجلی بھی بنائی جاسکتی ہے

دنیا میں عام طور پر مرنے والے انسانوں کو یا تو زمین میں دفنا دیا جاتا ہے یا پھر ان کی لاش جلا کر راکھ بنا دی جاتی ہے۔ تاہم، یہ بات بھی درست ہے کہ کسی بھی دوسرے جاندار کی طرح انسانی جسم بھی ایسے مفید مادّوں سے بھرپور ہے کہ جو اگر زمین میں شامل ہوجائیں تو معیاری کھاد کا کام کرتے ہوئے، زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ البتہ، قانون کی رُو سے اب تک ایسا کرنے کی اجازت نہیں تھی

’’ریکمپوز‘‘ کے نام سے قائم ہونے والی یہ کمپنی خود کو دنیا میں ’’انسانی کمپوسٹنگ کا پہلا کارخانہ‘‘ بھی قرار دیتی ہے کیونکہ اس سے پہلے تک انسانی کمپوسٹنگ کےلیے کوئی کمپنی یہ کام باضابطہ اور قانونی طور پر نہیں کررہی تھی۔

ویسے تو یہ کمپنی برسوں پہلے قائم کردی گئی تھی لیکن اسے امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک حالیہ قانون منظور ہونے کے بعد ہی کام کی اجازت ملی ہے۔ اس قانون کے تحت ریاست واشنگٹن میں انسانی کمپوسٹنگ کو قانونی حیثیت دی گئی ہے

ریکمپوز نے اپنی ’’ہیومن کمپوسٹ فیسیلیٹی‘‘ کا ڈیزائن تیار کروالیا ہے جسے دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہاں انسانی لاشوں کو مخصوص نمی اور درجہ حرارت والے ایسے ’’خانوں‘‘ میں دفن کیا جائے گا جہاں پورا انسانی جسم صرف 30 دن کے اندر اندر مکمل طور پر گل سڑ کر ختم ہوجائے گا؛ اور اس کی جگہ وہاں زرخیزی سے بھرپور مٹی باقی بچے گی جس میں انسانی جسم کی تحلیل سے بننے والی کھاد اور دوسرے نامیاتی مادّے (آرگینک مٹیریلز) شامل ہوں گے

ریکمپوز کا کہنا ہے کہ انسانوں لاشوں کو تلف کرنے کا یہ طریقہ سب سے زیادہ ماحول دوست ہے جبکہ مرنے والے کے لواحقین کو اطمینان رہے گا کہ ان کے متوفی عزیز کا جسم ختم ہو کر ضائع نہیں ہوا بلکہ کسی مفید کام میں استعمال ہوگیا۔

فی الحال انسانی کمپوسٹنگ کے اس اوّلین کارخانے کی صرف تھری ڈی تصاویر اور نقشے ہی موجود ہیں جنہیں اولسن کنڈگ نامی آرکٹیکٹ نے بنایا ہے۔ اصل کارخانہ بھی اسی مطابقت میں تیار کیا جائے گا۔ جہاں ایک وقت میں 100 سے کچھ زیادہ لاشوں کی کمپوسٹنگ کی گنجائش ہوگی

تاہم یہ سب کچھ بالکل مفت میں نہیں ہوگا بلکہ ہر ایک لاش کی کمپوسٹنگ پر 5500 ڈالر معاوضہ لیا جائے گا

LEAVE A REPLY