چین کا ایک اور تعمیراتی عجوبہ عوام کے لیے کھول دیا گیا

0
42

چین نے ایک نیا تعمیراتی عجوبہ بیجنگ کے نئے ائیرپورٹ کی شکل میں تیار کرلیا ہے جسے باضابطہ طور پر پروازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

ڈاکسنگ انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو چین میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت کے 70 سال مکمل ہونے کے موقع پر تیار کیا گیا اور بدھ کی صبح چینی صدر شی جن پنگ نے ائیرپورٹ کا افتتاح کیا۔

یہ اسٹار فش کی شکل کا ائیرپورٹ ہے جسے معروف آرکیٹیکٹ زاہا حدید نے ڈیزائن کیا تھا اور اس کی تعمیر کا آغاز 2014 میں ہوا تھا۔

چینی میڈیا نے اس ائیرپورٹ کو اسٹار فش کا نام بھی دیا ہے کیونکہ یہ 5 حصوں میں تقسیم ہیں جن کو ایک مین ہال آپشن میں ملاتا ہے۔

رائٹرز فوٹو

تاہم انتظامیہ کا وعدہ ہے کہ مسافروں کو کسی بھی جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے میں 8 منٹ سے زیادہ نہیں چلنا پڑے گا۔

اے پی فوٹو

اس ائیرپورٹ کی چھت پر 8 ہزار روف ٹاپ ونڈوز نصب کی گئی ہیں جبکہ متعدد بڑے اسٹورز اور ریسٹورنٹس مسافروں کی خدمت کے لیے کام کررہے ہیں۔

اے پی فوٹو

اس وقت بیجنگ کیپیٹل انٹرنیشنل ائیرپورٹ دنیا کا دوسرا مصروف ترین ہوائی مرکز ہے اور وہاں مزید فضائی کمپنیوں کے لیے پروازوں کا اضافہ کرنا ناممکن ہوگیا تھا۔

اے پی فوٹو

2018 میں اس ائیرپورٹ کے 3 ٹرمینلز سے 10 کروڑ سے زائد مسافر گزرے اور اس طرح وہ اٹلانٹا کے ہارٹس فیلڈ جیکسنز کے بعد دوسرا مصروف ترین ائیرپورٹ بن گیا۔

اے ایف پی فوٹو

چین 2022 تک امریکا کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑے ہوائی سفر کی مارکیٹ بن جائے گا اور اس نئے ائیرپورٹ میں 2025 تک سالانہ 7 کروڑ 20 لاکھ مسافروں اور 20 لاکھ ٹن کارگو کو ہینڈل کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔

اے ایف پی فوٹو

مستقبل کے اس ائیرپورٹ کے ماسٹر پلان میں 7 رن ویز، 10 کروڑ مسافروں اور 40 لاکھ ٹن کارگو سالانہ ہینڈل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

اے ایف پی فوٹو

یہ نیا ائیرپورٹ شہر کے مرکز سے 50 کلومیٹر دور ہے جبکہ مشرقی اور شمالی مصروف ترین اضلاع اس سے بھی زیادہ دور ہیں۔

اے پی فوٹو

حکام کا کہنا ہے کہ فاصلے کے حوالے سے لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس ائیرپورٹ کو تیز ترین ریل، انٹرسٹی سروسز سے جوڑا گیا ہے اور وہاں سے ایکسپریس ٹرین 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسافروں کو شہر میں 20 منٹ سے بھی کم وقت میں پہنچادیں گی۔

اے پی فوٹو

اس کی تعمیر پر 11 ارب 50 کروڑ ڈالرز کا خرچہ ہوا۔

اے ایف پی فوٹو

LEAVE A REPLY